ابنا: يمن کے دارالحکومت صنعا اور ديگر شہروں ميں دسيوں ہزار لوگوں نے ايک بار پھر سڑکوں پر آکے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کي فوري برطرفي کا مطالبہ کيا ہے - صنعا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق مظاہرين نے اپنے نعروں ميں عبداللہ صالح اور اس کے حاميوں پر عوام کے قتل عام کے جرم پر مقدمہ چلانے کي ضرورت پر زور ديا - ادھر صنعا کے شمال ميں واقع ارحب نامي علاقے ميں انقلابيوں اور ڈکٹيٹر کے فوجيوں کے درميان زبردست جھڑپيں ہوئي ہيں- انقلابيوں کے ذرائع نے بتايا ہے کہ يمن کي صدارتي گارڈ کے اہلکاروں نے بھاري ہتھياروں اور توپوں سے گولہ باري کي ہے جس ميں بہت سے لوگ جاں بحق ہوگئے -
دارالحکومت صنعا ميں بھي ڈکٹيٹر عبداللہ کے فوجيوں اور انقلابيوں کے درميان لڑائي کي خبر ہے -يمن ميں اگرچہ ڈکٹيٹر کے فوجي پر امن مظاہرين پر مسلسل حملے کررہے ہيں ليکن مظاہروں ميں کوئي کمي نہيں آئي ہے بلکہ ان ميں روز بروز وسعت اور شدت آرہي ہے-
يمن کے عوام تيس سال سے زائد عرصے سے جاري عبداللہ صالح کي آمريت کا خاتمہ چاہتے ہيں - انہوں نے اسي کے ساتھ يمن ميں اقتدار کي منتقلي کے بارے ميں سلامتي کونسل کي قرار داد کو بھي مسترد کرديا ہے - يمن سے موصولہ ايک خبر يہ ہے کہ اتوار کي رات صنعا کے بين الاقوامي ہوائي اڈے کے قريب فضائيہ کے ايک مرکز ميں يکے بعد ديگرے چار دھماکے ہوئے جس کے بعد بين الاقوامي ہوائي اڈہ بند کرديا گيا تھا - رپورٹ کے مطابق دھماکے سے يمن کے دو جنگي طيارے تباہ ہوگئے ہيں -
.............
/169